حHakeem ZakiUnani physician · Author
→ All Zaki Insights
دین و معاشرت

اسلام میں عورت: وہ مقام جو اللہ نے اسے دیا

عورت کے لیے عزت، حقوق، آسانیاں اور تحف

عورت کون ہے؟

کیا وہ صرف کسی کی بیٹی، کسی کی بیوی یا کسی کی ماں ہے؟

نہیں۔ اسلام سب سے پہلے یہ بتاتا ہے کہ عورت اللہ کی بندی اور ایک مکمل انسان ہے۔ اس کا اپنا ایمان، اپنی عقل، اپنی مرضی اور اپنا مال ہے۔ وہ اپنے عمل کا جواب خود دے گی۔ وہ کسی مرد سے تعلق کی وجہ سے انسان نہیں بنتی؛ اللہ نے اسے پیدا ہی عزت کے ساتھ کیا ہے۔

قرآنِ مجید نیکی اور اجر کا ذکر کرتا ہے تو مرد اور عورت دونوں کو ساتھ رکھتا ہے:

إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ... أَعَدَّ اللَّهُ لَهُمْ مَغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا

بے شک مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں، مومن مرد اور مومن عورتیں... اللہ نے ان سب کے لیے بخشش اور بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔

(سورۃ الأحزاب: 35)

اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرد اور عورت جسم اور زندگی کی ہر ذمہ داری میں بالکل ایک جیسے ہیں۔ اسلام نے دونوں کو انسانی عزت، نیکی کے اجر اور اللہ کے سامنے جواب دہی میں برابر رکھا ہے، لیکن بعض ذمہ داریاں مختلف رکھی ہیں۔

کہیں مرد پر زیادہ بوجھ رکھا اور کہیں عورت کو خاص آسانی یا حق دیا۔ اس لیے ہر فرق ظلم نہیں ہوتا؛ کبھی صحیح فرق ہی انصاف ہوتا ہے۔

اس مضمون کا مقصد مرد کو مجرم اور عورت کو ہر حال میں بے قصور ثابت کرنا نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ عورت اپنے حقوق پہچانے اور مرد اپنی ذمہ داریاں سمجھے۔ ایسی بات سے بھی بچنا ضروری ہے جس کی دین میں مضبوط دلیل نہ ہو۔ اسلام کی خوبصورتی دکھانے کے لیے مبالغے کی ضرورت نہیں؛ سچ اپنی جگہ خود بہت خوبصورت ہے۔

بیٹی: شرمندگی نہیں، اللہ کی رحمت

اسلام سے پہلے بہت سے عرب بیٹی کی پیدائش کو شرمندگی سمجھتے تھے۔ بعض سنگ دل لوگ اپنی بچیوں کو زندہ دفن تک کردیتے تھے۔ قرآن نے اس ظلم کو صرف منع ہی نہیں کیا بلکہ اس معصوم بچی کا مقدمہ قیامت کے دن کے لیے محفوظ کردیا:

وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ ۝ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ

اور جب زندہ دفن کی گئی بچی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس گناہ پر قتل کی گئی؟

(سورۃ التکویر: 8–9)

غور کیجیے، قیامت کے دن سوال بچی سے ہوگا مگر جواب قاتل کو دینا ہوگا۔ یہ انداز بتاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک اس مظلوم بچی کی جان کتنی قیمتی ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بیٹیوں کی اچھی پرورش اور ان کے ساتھ نرمی کو جنت کا ذریعہ بتایا۔ جن بیٹیوں کو لوگ بوجھ سمجھتے تھے، نبی ﷺ نے انہی کو جہنم سے بچانے والی آڑ قرار دیا۔ بیٹی کو محبت دینا، پڑھانا، اس کی بات سننا اور اس کی عزت بچانا کوئی معمولی نیکی نہیں۔

بیٹی کو صرف اس دن عزت دینا کافی نہیں جب وہ چھوٹی اور پیاری لگتی ہو۔ جب وہ بڑی ہوجائے، اپنی پسند اور رائے رکھے یا نکاح کے معاملے میں اپنی مرضی بیان کرے، تب بھی اس کی عزت باقی رہتی ہے۔ اسے بیٹے سے کم کھانا، کم تعلیم، کم علاج یا کم محبت دینا اسلامی انصاف نہیں۔

اسی طرح عورت کی قدر صرف شادی سے نہیں۔ غیر شادی شدہ، طلاق یافتہ، بیوہ یا بے اولاد عورت بھی پوری عزت رکھتی ہے۔ شادی ایک نعمت ہوسکتی ہے، مگر عورت کے انسان ہونے کی شرط نہیں۔ اس کی اصل قدر ایمان، تقویٰ، علم، اخلاق اور نیک عمل سے ہے۔

عورت کی اپنی عقل، اپنی مرضی اور اپنا مال

اسلام عورت کو ایسا بے اختیار وجود نہیں سمجھتا جس کے بارے میں ہر فیصلہ دوسرے لوگ کریں۔ وہ خرید و فروخت کرسکتی ہے، مال کی مالک بن سکتی ہے، تحفہ دے سکتی ہے، کسی کو وکیل بنا سکتی ہے اور اپنے جائز مال کو اپنی مرضی سے خرچ کرسکتی ہے۔ اس کا مال شوہر، باپ یا بھائی کا مال نہیں بن جاتا۔

اگر عورت کماتی ہے تو اس کی حلال کمائی اسی کی ہے۔ شوہر اس کی رضامندی کے بغیر اس کی تنخواہ یا بچت نہیں لے سکتا۔ اسی طرح عورت کو بھی شوہر کا مال ناحق لینے کی اجازت نہیں۔ اسلام دونوں کو امانت اور انصاف سکھاتا ہے۔

عورت کو دین سیکھنے اور ضروری دنیاوی علم حاصل کرنے کا بھی حق ہے۔ صحابیات رضی اللہ عنہن رسول اللہ ﷺ سے سوال کرتی تھیں۔ بعض اوقات انہوں نے اپنے لیے الگ وقت مانگا تاکہ دین سمجھ سکیں، اور آپ ﷺ نے انہیں وقت دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت کا سوال کرنا بے ادبی نہیں، علم حاصل کرنا اس کی ضرورت ہے۔

عورت کو یہ کہہ کر علم سے دور رکھنا کہ اسے صرف گھر سنبھالنا ہے، درست نہیں۔ گھر، بچوں کی تربیت، دین پر عمل اور زندگی کے فیصلوں—سب کے لیے علم چاہیے۔ تعلیم کا طریقہ پاکیزہ اور محفوظ ہو، مگر اس کا دروازہ بند نہ کیا جائے۔

نکاح: عورت کی خرید نہیں، دو انسانوں کا عہد

اسلام میں نکاح کسی عورت کی خرید و فروخت نہیں۔ مہر اس کی قیمت نہیں اور شوہر اس کا مالک نہیں۔ نکاح ایک مضبوط عہد ہے جس میں دونوں ایک دوسرے کے حقوق قبول کرتے ہیں۔

اس عہد کی بنیاد عورت کی حقیقی رضامندی ہے۔ والدین کو مشورہ دینے، اچھا رشتہ تلاش کرنے اور نقصان سے بچانے کا حق ہے، مگر انہیں بالغ عورت کی زندگی کا مالک نہیں بنایا گیا۔ خوف، دھمکی، مار، خاندان کی بدنامی کا دباؤ یا جذباتی بلیک میلنگ کے ذریعے لیا گیا ’’ہاں‘‘ حقیقی رضامندی نہیں۔

حدیث میں کنواری لڑکی کی خاموشی کو اجازت کہا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ڈری ہوئی لڑکی خاموش رہے اور گھر والے اپنی مرضی کا نکاح کردیں۔

اس حدیث کا تعلق اس لڑکی سے ہے جو حیا کی وجہ سے صاف لفظوں میں ہاں نہ کہہ سکے، مگر اسے انکار کی پوری آزادی حاصل ہو۔ جہاں انکار پر سزا، دھمکی یا رشتہ توڑنے کا خوف ہو، وہاں خاموشی کو رضامندی کہنا حدیث کے مقصد کے خلاف ہے۔

رسول اللہ ﷺ کے سامنے جب عورتوں نے اپنی مرضی کے خلاف کیے گئے نکاح کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے ان کی بات سنی اور انہیں اختیار دیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عورت کی بات نکاح سے پہلے بھی اہم ہے اور نکاح کے بعد بھی۔

قرآن نکاح کا مقصد بہت آسان الفاظ میں بتاتا ہے:

لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً

تاکہ تم ایک دوسرے کے پاس سکون پاؤ، اور اللہ نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔

(سورۃ الروم: 21)

یعنی شادی کا گھر وہ ہے جہاں سکون ملے، خوف نہیں؛ محبت ملے، بے عزتی نہیں؛ اور رحمت ملے، ظلم نہیں۔

قرآن نے میاں بیوی کو ایک دوسرے کا لباس بھی کہا ہے۔ لباس انسان کے بہت قریب ہوتا ہے، اسے ڈھانپتا ہے، بچاتا ہے اور خوبصورتی دیتا ہے۔ شوہر اور بیوی کو بھی ایک دوسرے کی کمزوری ڈھانپنی، عزت بچانی اور مشکل میں سہارا بننا چاہیے۔

قوامیت کا آسان مطلب: بادشاہی نہیں، ذمہ داری

قرآن نے مرد کو گھر کا قوّام کہا ہے۔ یہ لفظ بہت لوگوں کو مشکل لگتا ہے۔ اس کا آسان مطلب ہے: گھر کی ذمہ داری اٹھانے والا، خرچ دینے والا، حفاظت کرنے والا اور گھر کے نظام کے بارے میں جواب دہ شخص۔

قوامیت کا مطلب یہ نہیں کہ شوہر جو چاہے کرے اور بیوی صرف حکم مانے۔ عورت کی عقل اور رائے کی بھی قدر ہے۔ جس مرد کو گھر کی ذمہ داری دی گئی، اسی پر کھانا، لباس، رہائش اور ضروری خرچ بھی لازم کیا گیا۔ اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی ہے۔

ایک اچھا شوہر فیصلہ کرتے وقت بیوی سے مشورہ کرتا ہے۔ وہ اس کی بات سنتا ہے۔ اگر بیوی کی رائے بہتر ہو تو اسے قبول کرنے میں اپنی توہین نہیں سمجھتا۔ گھر فوجی چھاؤنی نہیں جہاں ہر بات حکم سے چلے۔ گھر محبت، سمجھ داری اور مشورے سے چلتا ہے۔

بیوی کو شوہر کے جائز حقوق ادا کرنے اور نیکی میں ساتھ دینے کا حکم ہے۔ اسے اطاعت فی المعروف کہتے ہیں، یعنی صرف صحیح اور جائز بات میں اطاعت۔ گناہ، ظلم، ناجائز قطعِ تعلق یا نقصان کے کام میں اطاعت لازم نہیں۔

حدیث میں اس عورت کے لیے جنت کی خوش خبری آئی ہے جو اپنی نمازوں کی حفاظت کرے، رمضان کے روزے رکھے، اپنی پاک دامنی بچائے اور شوہر کے جائز حقوق ادا کرے۔ یہ بہت بڑی فضیلت ہے۔ لیکن اس حدیث سے شوہر کو ظلم کی اجازت نہیں ملتی۔ اسی دین نے شوہر کو بھی حکم دیا:

وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ

عورتوں کے ساتھ اچھے طریقے سے زندگی گزارو۔

(سورۃ النساء: 19)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں بہترین وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہترین ہو۔ لہٰذا جو شخص باہر سب سے ہنس کر ملے، مگر گھر میں گالی، دھمکی اور خوف کا ماحول بنائے، وہ نبوی اخلاق کا نمونہ نہیں۔

مہر: عورت کا حق، کسی پر احسان نہیں

مہر وہ رقم، سونا، مال یا دوسری جائز چیز ہے جو نکاح کے سبب عورت کا حق بنتی ہے۔ یہ شادی کی قیمت نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے دیا ہوا مالی حق ہے۔

مہر عورت ہی کا ہوتا ہے۔ اس کے والدین، بھائی یا شوہر کو اس کی اجازت کے بغیر لینے کا حق نہیں۔ عورت اگر اپنی پوری خوشی سے کچھ حصہ معاف کردے تو الگ بات ہے، مگر دباؤ ڈال کر معاف کرانا درست نہیں۔

بعض جگہ نکاح کے وقت بہت بڑا مہر صرف دکھاوے کے لیے لکھ دیا جاتا ہے، جسے ادا کرنے کا ارادہ ہی نہیں ہوتا۔ یہ بھی غلط ہے۔ مہر مناسب ہو، واضح ہو اور شوہر اسے حقیقی قرض اور ذمہ داری سمجھے۔

اسلام نے شوہر پر بیوی کا نفقہ بھی لازم کیا ہے۔ نفقہ کا آسان مطلب ہے: کھانا، لباس، رہائش اور حالات و حیثیت کے مطابق بنیادی ضروریات کا خرچ۔ بیوی خود مال دار ہو تب بھی اس کا بنیادی خرچ شوہر کی ذمہ داری رہتا ہے۔ اگر وہ اپنی خوشی سے گھر میں مالی مدد کرے تو یہ اس کا احسان ہے، اس پر زبردستی نہیں کی جاسکتی۔

حدیث میں اہل و عیال پر اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرنے کو صدقہ کہا گیا ہے۔ ایک مرد جب اپنی بیوی اور بچوں کے لیے حلال کماتا ہے تو وہ صرف دنیا نہیں کما رہا ہوتا؛ صحیح نیت سے اسے عبادت کا اجر بھی ملتا ہے۔

میراث: عورت ہر حال میں مرد کا آدھا نہیں پاتی

قرآن سے پہلے کے بعض معاشروں میں عورت کو وراثت نہیں ملتی تھی۔ کبھی بیوہ عورت کو بھی مرنے والے کی چھوڑی ہوئی چیزوں کی طرح سمجھ لیا جاتا تھا۔ قرآن نے یہ ظلم ختم کیا اور صاف اعلان کیا کہ مردوں کا بھی حصہ ہے اور عورتوں کا بھی۔

اسلامی میراث کے بارے میں عام طور پر ایک ہی جملہ کہا جاتا ہے: ’’عورت کو مرد کا آدھا ملتا ہے۔‘‘ یہ بات ہر صورت میں صحیح نہیں۔ بعض خاص صورتوں میں بیٹے کو بیٹی سے دو گنا ملتا ہے، لیکن میراث کی ہر صورت ایسی نہیں۔ کبھی مرد اور عورت برابر پاتے ہیں، کبھی عورت کم، کبھی زیادہ، اور کبھی عورت وارث ہوتی ہے مگر مقابل کا کوئی مرد وارث نہیں ہوتا۔

مثلاً اگر مرنے والے کی اولاد میں بیٹا موجود ہو تو ماں اور باپ دونوں کو چھٹا حصہ ملتا ہے۔ یہاں عورت اور مرد برابر ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ میراث کا حساب صرف مرد یا عورت ہونے پر نہیں، بلکہ رشتے کی نزدیکی، موجود وارثوں اور مالی ذمہ داریوں پر بھی ہوتا ہے۔

جہاں بیٹے کو بیٹی سے زیادہ ملتا ہے، وہاں بیٹی کا حصہ مکمل طور پر اسی کا رہتا ہے، جبکہ بیٹے پر مہر، بیوی بچوں کا خرچ اور دوسری مالی ذمہ داریاں آسکتی ہیں۔ اس لیے صرف ملنے والی رقم دیکھنا پوری تصویر نہیں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ میراث میں حصہ کم یا زیادہ ہونا انسان کی عزت کم یا زیادہ ہونے کی دلیل نہیں۔ اگر رقم ہی اللہ کے نزدیک قدر کا پیمانہ ہوتی تو غریب نیک انسان کبھی عزت والا نہ ہوتا۔ اللہ کے نزدیک اصل بڑائی تقویٰ سے ہے۔

طلاق کے بعد بھی عورت کو بے سہارا نہیں چھوڑا گیا

اسلام نکاح بچانے کی کوشش کرتا ہے، لیکن اگر ساتھ رہنا مسلسل ظلم اور تکلیف بن جائے تو علیحدگی کا راستہ بند نہیں کرتا۔ ہر ٹوٹتا ہوا نکاح ناکامی نہیں ہوتا؛ کبھی باعزت جدائی مسلسل گناہ، مارپیٹ اور نفرت سے بہتر ہوتی ہے۔

طلاق کے بعد عدت ہوتی ہے۔ عدت اس مقرر مدت کو کہتے ہیں جس میں عورت دوسرا نکاح نہیں کرتی۔ اس کے کئی دینی اور خاندانی فائدے ہیں، جن میں حمل کی حالت واضح ہونا اور واپسی کی گنجائش باقی رہنا بھی شامل ہے۔

طلاق کی قسم اور عورت کی حالت کے مطابق رہائش اور خرچ کے احکام بدلتے ہیں۔ البتہ قرآن سکھاتا ہے کہ عورت کو ستانے کے لیے گھر سے نہ نکالا جائے، حاملہ طلاق یافتہ عورت کا خرچ بچے کی پیدائش تک دیا جائے، اور بچے کو دودھ پلانے پر اس کی اجرت طے کی جائے۔ بھلے طریقے سے رخصت کرنا بھی قرآن کی تعلیم ہے۔

عورت کے لیے خلع کا راستہ بھی ہے، یعنی شرعی طریقے سے علیحدگی حاصل کرنا۔ اس میں مہر واپس کرنے یا باہمی طور پر کوئی صورت طے ہوسکتی ہے۔

ظلم، خرچ نہ ملنے، شوہر کے غائب ہونے یا بنیادی حقوق ختم ہوجانے پر قاضی یا عدالت سے فسخِ نکاح یعنی نکاح ختم کرانے کی صورت بھی ہوسکتی ہے۔ تفصیل حالات کے مطابق ہوگی، مگر یہ کہنا غلط ہے کہ عورت کے پاس ظلم سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں۔

حیض اور نفاس: گناہ نہیں، جسم کی ایک حالت

حیض یعنی ماہواری اور نفاس یعنی بچے کی پیدائش کے بعد آنے والا خون، عورت کی خطا نہیں۔ یہ اس کے جسم کا فطری نظام ہے۔ ان دنوں میں نماز معاف کردی گئی ہے اور بعد میں ان نمازوں کی قضا بھی نہیں۔ رمضان کے جو روزے رہ جائیں، وہ بعد میں رکھے جاتے ہیں۔

یہ رعایت اس بات کی علامت نہیں کہ عورت اللہ سے دور یا کم درجے کی انسان ہوگئی۔ اس حالت میں نماز نہ پڑھنا بھی اللہ کے حکم پر عمل ہے۔ عام دنوں میں نماز پڑھنا عبادت ہے اور حیض کے دنوں میں نماز چھوڑنا بھی اطاعت ہے، کیونکہ دونوں کام اللہ کے حکم سے ہوتے ہیں۔

حیض والی عورت کوئی ایسی چیز نہیں جسے چھونا، اس کے پاس بیٹھنا یا اس کے ہاتھ کا کھانا منع ہو۔ رسول اللہ ﷺ کا اپنی ازواج کے ساتھ محبت اور معمول کا برتاؤ ثابت ہے۔ صرف وہ عبادات رُکتی ہیں جن کے بارے میں شریعت نے خاص حکم دیا ہے۔

نماز، مسجد، جہاد اور حج میں آسانی

عورت پر جمعہ اور مسجد کی جماعت میں حاضری لازم نہیں کی گئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ مسجد جا ہی نہیں سکتی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی بندیوں کو مسجد جانے سے نہ روکو۔ گھر میں نماز پڑھنے کی سہولت ایک آسانی ہے، عورت کے کم درجے کی علامت نہیں۔

عام حالات میں جنگ میں لڑنے کی ذمہ داری عورت پر نہیں رکھی گئی۔ البتہ اچانک حملہ ہوجائے اور جان بچانے کے لیے دفاع ضروری ہو تو وہ الگ ہنگامی صورت ہے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جہاد کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں کے لیے حج کو بہترین جہاد بتایا۔ حج میں مردوں کی طرح اس کے لیے دو خاص چادریں مقرر نہیں۔ وہ سادہ، پردے والا عام لباس پہنتی ہے۔ احرام میں نقاب اور دستانے نہیں پہنتی، لیکن غیر محرم سامنے ہو تو اوپر سے کپڑا لٹکا کر چہرہ چھپا سکتی ہے۔

عورت حج یا عمرے کے آخر میں سر نہیں منڈاتی؛ بالوں کے سروں سے تھوڑے بال کاٹتی ہے۔ اگر حج کے دوران حیض آجائے تو طواف کے سوا باقی اعمال کرسکتی ہے اور پاک ہونے کے بعد طواف کرتی ہے۔

اسلام نے عورت کے لیے عام شرعی حدود میں سونے کے زیور اور ریشم کی اجازت بھی رکھی ہے، جبکہ مردوں کے لیے خالص سونے اور ریشم کے استعمال کا حکم الگ ہے۔ یہ عورت کے لیے زینت کی ایک اجازت ہے، البتہ دکھاوا، تکبر اور فضول خرچی مرد و عورت دونوں کے لیے غلط ہیں۔

اگر کوئی عورت حمل یا بچے کی پیدائش کے سبب وفات پاجائے تو احادیث میں اس کے لیے شہادت کے اجر کی خوش خبری آئی ہے۔ دنیا شاید اس کی تکلیف پوری طرح نہ سمجھ سکے، مگر اللہ اس کی ایک ایک تکلیف جانتا اور اس کا اجر محفوظ کرتا ہے۔

ماں: خدمت میں سب سے آگے

ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا: میرے اچھے برتاؤ کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: تمہاری ماں۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا، آپ ﷺ نے پھر فرمایا: تمہاری ماں۔ تیسری بار بھی فرمایا: تمہاری ماں۔ پھر فرمایا: تمہارا باپ۔

یہ حدیث باپ کا حق ختم نہیں کرتی۔ لیکن حمل، ولادت، دودھ پلانے، راتوں کے جاگنے اور برسوں کی پرورش کی وجہ سے ماں کو خدمت میں خاص درجہ دیا گیا۔

ماں کی خدمت صرف پیسے دینے کا نام نہیں۔ اس سے نرمی سے بات کرنا، وقت دینا، اس کی تنہائی سمجھنا، بیماری میں دیکھ بھال کرنا اور بڑھاپے میں اس کی بار بار کی بات سے نہ جھنجھلانا بھی خدمت ہے۔

البتہ ماں بھی انسان ہے اور اس سے غلطی ہوسکتی ہے۔ اگر والدہ کسی گناہ یا ظلم کا حکم دیں تو وہ حکم نہیں مانا جائے گا، مگر انکار بھی ادب اور نرمی کے ساتھ ہوگا۔ اسلام حق اور ادب دونوں کو ساتھ رکھتا ہے۔


حجاب: صرف عورت کا کپڑا نہیں، پورے معاشرے کی پاکیزگی

حجاب کا ذکر آتے ہی اکثر ساری ذمہ داری عورت پر ڈال دی جاتی ہے، حالانکہ قرآن نے پہلے مومن مردوں کو نگاہ نیچی رکھنے اور اپنی پاک دامنی بچانے کا حکم دیا، پھر عورتوں کو پردے کی ہدایت دی۔

حجاب صرف ایک کپڑے کا نام نہیں۔ اس میں لباس، نگاہ، گفتگو، چال چلن اور مرد و عورت کے درمیان مناسب حدیں سب شامل ہیں۔ عورت کے لیے پردہ اللہ کا حکم ہے، لیکن مرد کے لیے اپنی آنکھ، زبان اور ارادے کو قابو میں رکھنا بھی اللہ کا حکم ہے۔

اگر کسی عورت کے پردے میں کمی ہو تو اس کا حساب اس کے عمل کے مطابق ہوگا۔ لیکن اس کمی سے کسی مرد کو گھورنے، چھیڑنے، گندی بات کرنے یا زیادتی کا حق نہیں مل جاتا۔ ہراسانی کرنے والا اپنے جرم کا ذمہ دار خود ہے۔ کسی مظلوم عورت کو یہ کہہ کر خاموش کرنا کہ اس کا لباس درست نہیں تھا، ایک جرم کو دوسرے مسئلے سے چھپانا ہے۔

اسلام عورت کی عزت کو صرف لباس سے نہیں بچاتا۔ پاک دامن عورت پر بدکاری کی تہمت کے لیے سخت سزا رکھی گئی۔ جاسوسی، بدگمانی اور میاں بیوی کے خاص راز پھیلانے سے بھی منع کیا گیا۔ دونوں ایک دوسرے کی کمزوریوں کے امین ہیں، بازار کے قصہ گو نہیں۔

یہاں ایک فرق ضرور سمجھنا چاہیے: عیب چھپانے کا مطلب ظلم چھپانا نہیں۔ اگر عورت پر ظلم ہورہا ہو تو وہ والدین، خاندان کے سمجھ دار افراد، مفتی، کونسلر، پولیس یا عدالت سے مدد لے سکتی ہے۔ ظلم کی شکایت کرنا غیبت یا بے حیائی نہیں، جب مقصد ظلم روکنا اور حق حاصل کرنا ہو۔

گھر عورت کا مرکز ہوسکتا ہے، قید خانہ نہیں

اسلام گھر اور خاندان کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ عورت گھر کی تعمیر میں بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ گھر کے دروازے اس پر بند کردیئے جائیں اور اسے تعلیم، علاج، عبادت یا ضروری کام کے لیے بھی باہر نہ جانے دیا جائے۔

رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتیں مسجد آتی تھیں، دینی سوال کرتی تھیں، زخمیوں کی دیکھ بھال کرتی تھیں، خرید و فروخت کرتی تھیں اور اپنی ضرورت کے کام انجام دیتی تھیں۔ اس لیے ’’گھر میں رہنا‘‘ اور ’’گھر میں قید کرنا‘‘ ایک بات نہیں۔

عورت جائز تعلیم، علاج، والدین سے ملاقات، ضروری خریداری، دینی یا سماجی خدمت اور شرعی حدود کے اندر جائز روزگار کے لیے باہر جاسکتی ہے۔ ہر خاندان کے حالات مختلف ہوتے ہیں، اس لیے میاں بیوی کو مشورے سے ایسا طریقہ طے کرنا چاہیے جس میں دین، حفاظت، بچوں اور دونوں کے حقوق کا خیال رہے۔

مرد پر گھر کی ضروریات پوری کرنا اس لیے لازم کیا گیا کہ عورت ہر حال میں کمانے پر مجبور نہ ہو۔ اسے یہ حق دیا گیا کہ بنیادی خرچ شوہر اٹھائے۔ اس ذمہ داری کو عورت کو قید کرنے کے بہانے میں بدل دینا حکم کا مقصد الٹ دینا ہے۔

عورت کو نقصان پہنچانا، گالی دینا اور چہرے پر مارنا

اسلام کا ایک بہت بڑا اصول ہے:

لَا ضَرَرَ وَلَا ضِرَارَ

نہ خود نقصان پہنچاؤ اور نہ نقصان کے جواب میں نقصان کرو۔

شوہر کو بیوی کے چہرے پر مارنے، اسے گالی دینے، بدصورت کہنے یا اس کی بے عزتی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ چہرہ انسان کی پہچان اور عزت کی خاص جگہ ہے۔ جسم کو زخمی کرنا ہی ظلم نہیں؛ مسلسل گالی، دھمکی، ذلیل کرنا، سب کے سامنے مذاق اڑانا، میکے والوں سے کاٹ دینا اور ہر وقت خوف میں رکھنا بھی نقصان ہے۔

جسم پر نشان نہ ہو تب بھی ظلم ہوسکتا ہے۔ مسلسل خوف سے نیند، ذہنی سکون، خود اعتمادی اور صحت متاثر ہوتی ہے۔ گھر کی مارپیٹ اور گالیاں بچوں کی شخصیت کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔

اسلام صرف مرد کو عورت کے ظلم سے نہیں روکتا؛ عورت کو بھی شوہر پر ہاتھ اٹھانے، گالی دینے، جھوٹا الزام لگانے یا اس کی عزت خراب کرنے کی اجازت نہیں۔ ظلم کرنے والے کا جنس نہیں دیکھا جاتا، عمل دیکھا جاتا ہے۔ البتہ جہاں ایک فریق زیادہ طاقت رکھتا ہو، وہاں اس کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔

عصمت دری: گناہ عورت کا نہیں، مجرم کا ہے

عصمت دری یعنی زبردستی جنسی زیادتی، اسلام میں بہت بڑا ظلم ہے۔ اس جرم کا گناہ مظلوم عورت پر نہیں ڈالا جاسکتا۔ اس نے کس طرح کا لباس پہنا تھا، وہ کہاں گئی تھی یا مجرم اسے پہلے سے جانتا تھا—ان باتوں سے زبردستی جائز نہیں ہوجاتی۔

یہ کہنا بھی درست نہیں کہ زیادتی کی ہر شکایت کے لیے لازماً چار عینی گواہ چاہییں۔ چار گواہوں کا مشہور حکم زنا پر شرعی حد ثابت کرنے کی خاص بحث سے متعلق ہے۔

زبردستی اور جنسی حملے کی تحقیق میں بیان، اقرار، طبی رپورٹ، جسمانی نشان، ڈی این اے، ویڈیو، پیغامات اور دوسرے مضبوط ثبوت دیکھے جاسکتے ہیں۔ کون سا ثبوت کس سزا کے لیے کافی ہے، یہ عدالت اور متعلقہ قانون طے کرے گا۔

اصل فہرستوں میں کبھی یہ لکھ دیا جاتا ہے کہ ’’جو عورت کی عصمت دری کرے اسے قتل کردیا جائے۔‘‘ یہ جملہ ہر صورت کے لیے درست نہیں۔ اسلامی قانون میں اس جرم کی سزا بہت سخت ہوسکتی ہے اور بعض سنگین صورتوں میں موت تک پہنچ سکتی ہے، لیکن سزا جرم کی نوعیت، ثبوت اور عدالتی فیصلے کے بعد ہوگی۔ کوئی فرد یا ہجوم صرف الزام سن کر کسی کو سزا نہیں دے سکتا۔

اپنی جان، گھر والوں یا عزت کی حفاظت کرتے ہوئے قتل ہونے والے کے لیے حدیث میں شہادت کی خوش خبری ہے۔ لیکن ’’عزت‘‘ کے نام پر خود عورت کو قتل کرنا، مارنا یا اس کی مرضی کے خلاف فیصلہ کرنا غیرت نہیں، کھلا ظلم ہے۔

سب سے مشکل سوال: کیا اسلام شوہر کو بیوی مارنے کی اجازت دیتا ہے؟

اس سوال سے بچنا نہیں چاہیے۔ سورۃ النساء کی آیت 34 میں وَاضْرِبُوهُنَّ کے الفاظ موجود ہیں۔ اگر یہ لفظ چھپا دیا جائے تو قاری سمجھے گا کہ پوری بات نہیں بتائی جارہی۔ اور صرف یہ ترجمہ لکھ دینا کہ ’’انہیں مارو‘‘ بھی آیت کا پورا مطلب نہیں بتاتا۔

اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے چند باتیں ایک ایک کرکے سمجھنی ہوں گی۔

پہلی بات: آیت عام ناراضی کے بارے میں نہیں

آیت میں نُشوز کی صورت بیان ہوئی ہے۔ نُشوز فقہ کا ایک لفظ ہے۔ اس کا مطلب ہر اختلاف یا ہر نافرمانی نہیں، بلکہ شادی شدہ زندگی کو شدید نقصان پہنچانے والا مسلسل اور سنگین رویہ ہے۔

بیوی کا اپنی رائے دینا نُشوز نہیں۔ شوہر کی غلط بات سے اختلاف نُشوز نہیں۔ سسرال کی ہر خدمت نہ کرنا نُشوز نہیں۔ کھانا دیر سے بننا، گھر کے کام میں کمی، تھکن، بیماری یا کسی بات پر ناراضی بھی اس آیت کے تحت مارنے کی وجہ نہیں بن سکتی۔

قرآن نے نُشوز کا لفظ صرف عورت کے لیے استعمال نہیں کیا۔ سورۃ النساء کی آیت 128 میں شوہر کے نُشوز یا منہ موڑنے کا ذکر بھی ہے۔ مرد بھی شادی کے حقوق توڑ سکتا ہے۔ اس لیے نُشوز کا تعلق آزاد رائے سے نہیں بلکہ نکاح کے بنیادی حقوق میں سنگین خرابی سے ہے۔

دوسری بات: قرآن نے فوراً ہاتھ اٹھانے کو نہیں کہا

آیت نے مسئلے کے کئی مرحلے بتائے۔ پہلے سمجھانے اور نصیحت کا ذکر ہے۔ پھر بستر میں دوری کا۔ اس کے بعد آخری درجے میں ضرب کا لفظ آیا۔ اگلی آیت میں دونوں خاندانوں سے ایک ایک سمجھ دار شخص کو بیچ میں ڈال کر صلح کرانے کا حکم ہے۔

اس ترتیب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مقصد غصہ نکالنا یا سزا دینا نہیں، بلکہ ٹوٹتے ہوئے گھر کو سنبھالنے کی کوشش کرنا ہے۔ شوہر کو یہ حق نہیں دیا گیا کہ اسے کوئی بات ناگوار گزرے اور وہ فوراً ہاتھ اٹھادے۔

تیسری بات: فقہاء نے اسے کھلی مارپیٹ نہیں کہا

فقہاء نے اس آخری درجے پر سخت شرطیں لگائیں: یہ شدید نہ ہو، زخم یا نشان نہ چھوڑے، چہرے اور نازک حصوں پر نہ ہو، غصہ نکالنے کے لیے نہ ہو، اور اس سے مسئلہ بڑھنے کا اندیشہ ہو تو اسے اختیار نہ کیا جائے۔

شوہر پر یہ مرحلہ اختیار کرنا لازم نہیں۔ یہ نہ عبادت ہے، نہ اچھے شوہر کی نشانی۔ اگر اسے عورت کی ذلت سمجھا جاتا ہو یا اس سے جسمانی یا ذہنی نقصان ہو تو اہلِ علم کے بیان کے مطابق اس کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔

چوتھی بات: رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی بیوی کو نہیں مارا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی عورت یا خادم کو اپنے ہاتھ سے نہیں مارا۔ جب بہت سی عورتوں نے اپنے شوہروں کی مارپیٹ کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ایسے لوگ تمہارے بہترین لوگ نہیں ہیں۔

آپ ﷺ نے اس شخص پر تعجب فرمایا جو بیوی کو غلام کی طرح مارتا ہے اور پھر اسی کے قریب جانا چاہتا ہے۔ مارپیٹ محبت، عزت اور میاں بیوی کی قربت توڑ دیتی ہے۔

نبی ﷺ کے پاس اختیار بھی تھا، گھریلو اختلافات بھی آئے، ناراضی کے مواقع بھی آئے، مگر آپ ﷺ نے ہاتھ نہیں اٹھایا۔ ایک مسلمان کے لیے اس سے بہتر نمونہ اور کیا ہوسکتا ہے؟

پانچویں بات: اگر ’’ہلکی مار‘‘ بھی ذلت دے تو؟

یہی آج کا اصل سوال ہے۔ اگر کسی عورت کو نام نہاد ہلکی ضرب سے بھی شدید بے عزتی محسوس ہو، وہ خوف میں چلی جائے، اس کا اعتماد ٹوٹے یا اس کے دل میں شوہر سے نفرت پیدا ہو تو پھر اسے کیوں اختیار کیا جائے؟

اس کا سیدھا جواب یہ ہے: اسے اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

جس عمل سے بے عزتی، خوف، جسمانی تکلیف یا ذہنی اذیت پیدا ہو، وہ فقہاء کی بیان کردہ ’’بے ضرر‘‘ صورت نہیں رہا۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ ہاتھ ہلکا تھا۔ نقصان صرف نیل یا خون کا نام نہیں؛ اعتماد ٹوٹنا اور خود کو غیر محفوظ سمجھنا بھی نقصان ہے۔

اس لیے آج صحیح اور محفوظ راستہ یہی ہے کہ شوہر بیوی پر ہاتھ بالکل نہ اٹھائے۔ بات کرے، کچھ وقت لے، خاندان کے سمجھ دار لوگوں، اچھے مفتی یا شادی کے مشیر سے مدد لے، اور ساتھ رہنا ممکن نہ ہو تو عزت سے علیحدگی اختیار کرے۔

چھٹی بات: پھر قرآن میں یہ بات کیوں آئی؟

قرآن حقیقی انسانوں اور معاشروں کی اصلاح کرتا ہے۔ جس زمانے میں وہ نازل ہوا، عورتوں کو مارنا عام تھا۔ قرآن نے اسے کھلا اور بے حساب حق نہیں رہنے دیا: پہلے نصیحت، پھر وقتی دوری، پھر انتہائی محدود آخری صورت، اور اس کے بعد خاندان کا بیچ بچاؤ رکھا۔

یوں آیت نے مارپیٹ شروع نہیں کرائی، بلکہ ایک موجود عمل کو سخت حدوں میں بند کیا۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے عمل سے دکھایا کہ عزت والا اور بہتر راستہ ہاتھ نہ اٹھانا ہے۔ اسی لیے اہلِ علم نے کہا کہ شریف اور بہتر لوگ اس آخری گنجائش کو چھوڑتے ہیں۔

ہر جائز چیز ہر وقت مناسب نہیں ہوتی۔ جب مقصد صلح ہو اور کسی جسمانی حرکت سے نفرت، مقدمہ اور ٹوٹ پھوٹ پیدا ہو تو اسے چھوڑ دینا شریعت کی مخالفت نہیں بلکہ آیت کے مقصد کی حفاظت ہے۔

ساتویں بات: آج کے قانون میں کیا ہوگا؟

ہندوستان میں عورتوں کو گھریلو تشدد سے بچانے کا ایک خاص قانون ہے، جس کا سرکاری نام Protection of Women from Domestic Violence Act, 2005 ہے۔ اس میں جسمانی، جنسی، زبانی، جذباتی اور مالی بدسلوکی بھی شامل ہے۔ عدالت عورت کے تحفظ، رہائش اور مالی مدد کے لیے مناسب حکم دے سکتی ہے۔

جرائم اور سزاؤں کے موجودہ قانون Bharatiya Nyaya Sanhita میں کسی کو جسمانی درد پہنچانا بھی بعض حالات میں “hurt” یعنی جسمانی نقصان مانا جاسکتا ہے۔ اس لیے کوئی شوہر یہ سمجھ کر ہاتھ نہ اٹھائے کہ ’’میں نے تو بہت ہلکا مارا تھا، اس لیے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ پولیس اور عدالت واقعے اور ثبوت کو قانون کے مطابق دیکھیں گے۔

عورت کی شکایت، پولیس کی تفتیش اور عدالت کا فیصلہ تین الگ مرحلے ہیں۔ صرف شکایت سے مرد مجرم ثابت نہیں ہوتا، لیکن حقیقی ظلم سے بچنے کے لیے مدد مانگنا بھی ’’بغاوت‘‘ نہیں۔

اگر عورت سچی شکایت کرے تو اسے بدنام کرنا ظلم ہے۔ اور اگر کوئی عورت جان بوجھ کر جھوٹا الزام لگاکر بے گناہ مرد کو نقصان پہنچائے تو یہ بھی گناہ اور ظلم ہے۔ اسلام مظلوم کی آواز بند نہیں کرتا اور الزام کو ثبوت بھی نہیں بناتا۔ دونوں طرف انصاف چاہتا ہے۔

اس پورے مسئلے کا مختصر جواب

کیا آیت میں ضرب کا لفظ موجود ہے؟ جی ہاں۔

کیا اس کا مطلب شوہر کو بیوی پر مارپیٹ کا عام حق دینا ہے؟ ہرگز نہیں۔

کیا معمولی اختلاف، غصہ، کھانے میں کمی یا اپنی رائے رکھنے پر ہاتھ اٹھایا جاسکتا ہے؟ نہیں۔

کیا جسمانی یا ذہنی نقصان، ذلت، خوف یا نشان کی اجازت ہے؟ نہیں۔

کیا شوہر پر اس آخری صورت کو اختیار کرنا لازم ہے؟ نہیں۔

رسول اللہ ﷺ کا اپنا طریقہ کیا تھا؟ آپ ﷺ نے کبھی کسی بیوی کو نہیں مارا۔

آج کی عملی ہدایت کیا ہونی چاہیے؟ بیوی پر ہاتھ بالکل نہ اٹھایا جائے؛ بات چیت، گھر والوں کے بیچ بچاؤ، اچھا مشورہ اور ضرورت پڑنے پر باعزت علیحدگی کا راستہ اپنایا جائے۔

حقوق کے ساتھ ذمہ داریاں بھی

اسلام نے عورت کو حقوق دیے ہیں تو اسے ذمہ داریوں سے خالی بھی نہیں رکھا۔ اسی طرح مرد کو کچھ اختیار دیا ہے تو اسے جواب دہی سے آزاد نہیں کیا۔

شوہر پر حلال کمائی، نفقہ، وفاداری، نرم برتاؤ، بیوی کی جسمانی اور جذباتی ضرورتوں کا خیال، بچوں کی تربیت اور گھر کی حفاظت لازم ہے۔ بیوی پر پاک دامنی، امانت، شوہر کے جائز حقوق، گھر کے سکون اور بچوں کی تربیت میں تعاون لازم ہے۔ دونوں پر ایک دوسرے کا راز اور عزت بچانا لازم ہے۔

بیوی صرف شوہر کی ضرورت پوری کرنے کے لیے نہیں اور شوہر صرف پیسہ دینے کی مشین نہیں۔ دونوں انسان ہیں؛ دونوں تھکتے، غلطی کرتے اور محبت، احترام اور معافی چاہتے ہیں۔

اگر مرد قوامیت کا نام لے کر ظلم کرے تو وہ قوامیت نہیں نبھا رہا بلکہ اسے بدنام کررہا ہے۔ اگر عورت حقوق کا نام لے کر بے عزتی، بے وفائی یا جھوٹ کو جائز سمجھے تو وہ بھی اسلامی انصاف پر نہیں۔ اچھا گھر تب بنتا ہے جب حق کے ساتھ اچھا برتاؤ، اختلاف کے ساتھ ادب اور اختیار کے ساتھ جواب دہی ہو۔

اسلام کو مسلمانوں کے غلط عمل سے نہ پہچانیے

کبھی مسلمان خاندان عورت کا حق دباتے ہیں، زبردستی نکاح کرتے ہیں، میراث نہیں دیتے، مہر روک لیتے ہیں یا قوامیت کے نام پر ظلم کرتے ہیں۔ یہ سب دیکھ کر کوئی عورت دین سے بدظن ہوسکتی ہے۔ اسے یہ فرق سمجھنا چاہیے کہ مسلمان کا ہر عمل اسلام نہیں ہوتا۔

لیکن یہ کہہ دینا بھی کافی نہیں کہ ’’اسلام نے سب حقوق دیے ہیں‘‘۔ اگر گھر، خاندان اور مسجد میں ان حقوق پر عمل نہ ہو تو صرف خوبصورت تقریر سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ دین کا تقاضا ہے کہ بیٹی کو میراث واقعی دی جائے، بہو کو انسان سمجھا جائے، بیوی کا مہر ادا ہو، ظلم روکا جائے اور عورت کی جائز شکایت سنی جائے۔

اسلام کی عظمت ثابت کرنے کے لیے یہ کہنا ضروری نہیں کہ ہر مذہب اور ہر قانون نے عورت کو صرف سامان بنایا۔ ایسے دعوے تحقیق کے بغیر درست نہیں۔ اسلام کی تعلیمات اپنی خوبصورتی کی وجہ سے کافی ہیں؛ انہیں مضبوط دلیل اور اچھے کردار کے ساتھ پیش کرنا چاہیے۔

عورت اپنے اصل مقام کو پہچانے

اے مسلمان عورت! تمہاری عزت کسی انسان کی دی ہوئی نہیں کہ وہ ناراض ہوکر واپس لے لے۔ تمہیں تمہارے رب نے عزت دی ہے۔

اسی نے تمہیں ایمان اور نیکی میں مخاطب کیا۔ نکاح میں تمہاری رضامندی کو اہم بنایا، مہر اور مال تمہارا حق رکھا، میراث میں حصہ دیا اور بنیادی خرچ شوہر پر رکھا۔ حیض و نفاس میں عبادت کی آسانی دی، ماں بننے کی تکلیف پر اجر رکھا اور تمہاری عزت پر حملے سے منع کیا۔

تمہاری قدر اس سے کم نہیں ہوجاتی کہ کسی باپ نے تمہیں بیٹے سے کم سمجھا، کسی شوہر نے تمہارا حق نہ دیا، کسی خاندان نے تمہیں بوجھ کہا یا کسی معاشرے نے تمہاری بات نہ سنی۔ لوگوں کا غلط رویہ اللہ کا فیصلہ نہیں بدل سکتا۔

اپنے حقوق جانو، مگر اپنے فرائض بھی پہچانو۔ علم حاصل کرو، مگر تکبر نہیں۔ اپنی بات کہو، مگر ظلم نہیں۔ ظلم سہنا عبادت نہیں، اور ہر اختلاف کو ظلم کہنا بھی انصاف نہیں۔ دین تمہیں نہ بے زبان بناتا ہے، نہ بے لگام؛ وہ تمہیں عزت، سمجھ داری اور اللہ کی جواب دہی کے ساتھ جینا سکھاتا ہے۔

اور اے مسلمان مرد! عورت کے حقوق تمہاری بخشش نہیں، اللہ کی امانت ہیں۔ تم مہر ادا کرتے ہو تو احسان نہیں، اپنا فرض ادا کرتے ہو۔ خرچ دیتے ہو تو قیمت نہیں چکاتے، ذمہ داری نبھاتے ہو۔ قوامیت عورت کا مالک بننے کا نام نہیں؛ اس کی حفاظت، دیکھ بھال اور اپنے رب کے سامنے اس کے بارے میں جواب دہ ہونے کا نام ہے۔

اسلام نے عورت کو نہ بازار کا سامان بنایا، نہ گھر کی بے زبان قیدی۔ اسے اللہ کی محترم بندی، مستقل مالی شخصیت، علم حاصل کرنے والی انسان، خاندان کی مضبوط رکن اور نیکی کے راستے میں مرد کی ساتھی بنایا۔

عورت اپنے رب کی دی ہوئی عزت کو پہچانے، مرد اس عزت کی حفاظت کرے، اور خاندان ایسا ماحول بنائے جہاں کسی کو اپنا حق مانگنے کے لیے اپنی آواز، اپنا گھر یا اپنا دین نہ کھونا پڑے۔

یہی اسلام میں عورت کا اصل مقام ہے۔


اہم مراجع

ذ
Hakeem Muhammad Zaki Al UsmaniOriginal publication · www.hakeemzaki.com